دستبردار
نیلے آسمان تلے پہاڑوں کے دامن میں ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان ایک چھوٹی سی بستی آباد تھی. اسی بستی میں ضعیف فضل الدین رہتا تھا جو کہ اپنی کھیت میں کام کر رہا تھا. کھیت کے ساتھ ایک دریا بہتا تھا. اس نے دیکھا دور کہیں ایک خاتون دریا میں کچھ پھینک رہی ہے. اچانک اس نے دیکھا کہ وہ خاتون تو ایک ڈبہ پھینک رہی ہے. خاتون کے وہاں سے جانے کے بعد وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور رسی کے ذریعے اس کو باہر نکالا. وہ حیران و پریشان تھا کہ آخر کیا ہوسکتا ہے اس ڈبے میں؟ اسی کشمکش میں وہ ڈبے کو گھر لے آیا. گھر پر اس کی زوجہ حسبِ معمول دوپہر کا کھانا پکا رہی تھی. فضل الدین کو وقت سے پہلے گھر پا کر اس نے پوچھا کہ '' فضلو! آج خیریت سے جلدی آ گئے؟ کھانا پکنے والا ہے.''
اب وہ فصلو کو حیرت میں پا کر اس کے پاس جاتی ہے اور پریشانی کی وجہ دریافت کرتی ہے. جس پر فضل الدین اس کو تمام ماجرا بیان کرتا ہے تو بانو کہتی ہے کہ'' اس میں گبھرانے کی کیا بات ہے ؟ بس ڈبہ کھولو'' دونوں ملکر ڈبہ کھولتے ہیں تو اس میں ایک معصوم سی چھ ماہ کی بچی کو پا کر 'جو گہری نیند میں ہوتی ہے' شش و پنج کا شکار ہو جاتے ہیں. دونوں یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آخر یہ کون ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟ اس کا کوئی ہے بھی یا نہیں؟ بیگم بانو بچی کو گود میں اٹھاتی ہے اور دودھ پلاتی ہے اور فضل سے کہتی ہے کہ '' آج سے ہم اس کو پا لیں گے اور یہ ہماری بیٹی ہے'' جس پر فضل الدین بانو کو سمجھاتے ہوئے کہتا ہے کہ'' ایسے کیسے ہم اس کو رکھ سکتے ہیں ؟ کل کو اس کے ماں باپ اس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے آ گئے تو ہم کیا کہیں گے '' بانو جذباتی ہو کر کہتی ہے کہ'' اگر اس کے ماں باپ کو اس کی فکر ہوتی تو وہ اس کو ڈھونڈ رہے ہوتے. بے شک! خدا کے حکم سے ہماری کوئی اپنی اولاد نہیں ہوئی، مگر اس کو اولاد سے بڑھ کر رکھیں گے. '' بانو کو اولاد کی حسرت کو دیکھتے ہوئے اس نے بات مان لی. دل ہی دل میں فضل الدین بھی یہی چاہتا تھا انہوں نے اس کا نام رکھا مہک کیونکہ وہ اپنے ساتھ ان کی زندگیوں میں بھی خوشبو بھر رہی تھی.
وقت گزرتا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مہک بڑی ہو گی. وہ بالکل چاند کا ٹکڑا تھی. اس بستی میں ہر کوئی مہک کو پسند کرتا تھا کیوں کہ وہ سب کے ساتھ بڑے خلوص سے پیش آتی تھی. بستی میں ہر کوئی اس کے اخلاق اور حسن کے گیت گاتا تھا. بیگم بانو بھی اس کے خوب لاڈ اٹھاتی تھی. بوڑھا فضلو بھی اس کو بہت چاہتا تھا. وہ گھر میں ماں کا ہاتھ بٹاتی اور والدین کی کام میں مدد بھی کرتی تھی. اور بستی میں اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہوتا تو مسب سے پہلے اس کی مدد کے لیے پہنچ جاتی تھی. مہک گھر میں مختلف اقسام کی کتابوں کا مطالعہ کرتی رہتی تھی. اس میں فارسی،عربی اور اسی طرح کی دیگر کتابیں تھی. جس کے باعث وہ ہر کام باآسانی کرلیتی تھی.
اس وادی سے کچھ میلوں کے فاصلے پر ایک بہت بڑا شہر آباد تھا جہاں امرہ رہتے تھے. اسی امرہ کی بستی میں ایک محل نما گھر میں ایک خاندان رہتا تھا. جو دنیا کے لئے بہت خوشحال گھرانہ تھا. مگر اندر سے اتنا ہی کھوکھلا تھا کیونکہ ان کے جذبات میں سچائی نہ تھی اسی گھر کے مالکہ بہت ہی غم زدہ رہتی تھی. چپ چاپ اپنے کمرے میں کسی چیز کو گلے لگائے روتی رہتی تھی.
ایک دن اس خاتون کو کسی کام سے اس وادی کا رخ کرنا پڑا. جب وہاں پہنچی تو اس کے دل کو کچھ ممقرار محسوس ہوا. وہ وہاں کسی زمین کے سلسلے میں گئی تھی جو کہ اس کو خریدنی تھی. وہ زمین کے مالک کے پاس پہنچی اور اس کو زمین بیچنے کے لئے کہا جس پر اس نے انکار کر دیا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا. وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ فضل الدین ہی تھا.
جب وہ گھر پہنچا تو بیگم نے کھانا لگایا مگر بوڑھا فضلو کہیں کھویا ہوا تھ. ا اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی تو وہی خاتون دروازے پر تھی. بیگم بانو نے اس کو اندر بلایا اور چائے وغیرہ پیش کی. فضل الدین نے سخت لہجے میں اس خاتون سے اس بار کہا کہ'' میرا جواب بدلے گا نہیں!! '' تو بانو نے پوچھا '' کیا ہوا؟ '' فضل نے بتایا کہ '' یہ عورت ہماری زمین خریدنا چاہتی ہے''. بانو نے اس خاتون سے کہا کہ'' وہ ہمارا واحد ذریعہ معاش ہے ہم وہ کیسے بیچ دیں'' اس پر اس خاتون نے کہا کہ'' میں آپ کو کافی رقم دوں گی اس کے بدلے. ''
اتنے ہی میں مہک آئی اور اس خاتون سے ملی. مہک کو دیکھ کر اس خاتون کی آنکھیں نم ہو گئیں اور اس کو گلے سے لگا لیا اور کہا کہ '' تم نہیں جانتیں کہ میں نے تمہیں کتنا یاد کیا!! '' فضل الدین سارا معاملہ سمجھ گیا اور اس نے مہک کو ساری داستان سنائی. جس پر مہک ایک لمبے کے لئے سکتے میں چلی گئی. مگر پھر خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے خاتون سے مخاطب ہو کر کہا :
'' اس دن آپ نے مجھ سے دستبرداری ظاہر کی تھی اور آج میں آپ سے دستبرداری ظاہر کرتی ہوں''
یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور وہ امیر خاتون اپنے ہاتھوں اپنی حقیقی دولت لٹانے پر غمزدہ لوٹ گئی.

کہانی کا تھیم بہت کمال ہے۔
ReplyDeleteذرا پھیلایا جاتا تو اثر دوگنا ہوجاتا۔
آئندہ عمل کرنے کی کوشش کی جاے گی
Deleteپروف ریڈنگ کی کافی ضرورت ہے۔ افسانہ یا کہانی میں صیغہ ایک ہی استعمال کریں یہاں ماضی اور کہیں کہیں حال کا صیغہ استعمال ہوا۔ اور کلایمکس بہت جلد سامنے آگیا۔ اور مالدار خاتون کا اپنی بیٹی سے دستبردار ہونا واضح نہیں ہوا ۔ کم از،کم غربت کے ہاتھوں تو یہ ممکن نظر
ReplyDeleteنہیں آتا۔ اور آخر میں مہک چھ ماہ کی عمر میں اپنی ماں سے جدا ہوئ اتنے عرصے بعد ایک آن میں ماں کا بیٹی کو اور بیٹی کا ماں کو پہچاننا محض اتفاق تو نہیں ہوسکتا ۔ باقی کیے جاؤ کوشش میرے دوستو
سر ماں نے پہچانا تھا
ReplyDelete